بڑا آپریشن شروع ہونے کو تیار، حکومت کا غیر قانونی مقیم مہاجرین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

بڑا آپریشن شروع ہونے کو تیار، حکومت کا غیر قانونی مقیم مہاجرین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کیلئے فیڈرل کانسٹیبلری کی 8 سے زائد پلاٹونز صوبے بھر کی پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ مشترکہ آپریشن 10 جولائی سے شروع ہوگا، جس میں پولیس اور ایف سی مل کر پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی مقیم مہاجرین کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی اور ان کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر کارروائی کریں گے، تاکہ غیر قانونی رہائش پذیر افراد کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

دوسری جانب صوبے میں افغان مہاجرین کے مزید کیمپ بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 50 سے زائد کیمپ بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد خاندان ان کیمپوں سے نکل کر افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تین ہزار سے زائد افغان مہاجر خاندان اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ واپس جانے والوں میں کاروباری افراد، طلبہ اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مالاکنڈ کے مستقبل سے متعلق اہم اجلاس، وزیراعلیٰ نے کئی بڑے احکامات جاری کر دیے

ادھر پشاور اور دیگر شہروں میں افغان تاجروں نے اپنے کاروباری مراکز خالی کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ قالین اور قیمتی پتھروں کے کاروبار سے وابستہ بڑی تعداد میں افراد بھی افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی ملک میں غیر قانونی رہائش کے خاتمے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے جاری پالیسی کا حصہ ہے۔

Scroll to Top