گورنر ایران روانہ، مگر قائم مقام گورنر کیوں مقرر نہ ہو سکے؟ 48 گھنٹوں سے اہم عہدہ خالی

گورنر ایران روانہ، مگر قائم مقام گورنر کیوں مقرر نہ ہو سکے؟ 48 گھنٹوں سے اہم عہدہ خالی

گورنر فیصل کریم کنڈی کی ایران روانگی کے بعد خیبرپختونخوا میں تاحال قائم مقام گورنر مقرر نہیں کیا گیا، جس پر آئینی و انتظامی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی ایران روانگی کے بعد تاحال قائم مقام گورنر کی تقرری عمل میں نہیں آ سکی، جس کے باعث صوبہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے گورنر کی عملی موجودگی کے بغیر انتظامی امور چلا رہا ہے۔ اس صورتحال نے آئینی اور انتظامی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے، جہاں قائم مقام گورنر کی عدم تقرری پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی سرکاری دورے پر ایران گئے ہوئے ہیں، جبکہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔ آئینی روایت اور انتظامی طریقہ کار کے مطابق گورنر کی غیر موجودگی میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کو قائم مقام گورنر کے فرائض سونپے جاتے ہیں، تاہم اس مرتبہ بھی ایسا انتظام نہیں کیا گیا۔

انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے دفتر سے متعلق متعدد آئینی، قانونی اور انتظامی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے گورنر یا قائم مقام گورنر کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں قائم مقام گورنر کی تقرری نہ ہونے کے باعث بعض اہم فائلوں، سرکاری منظوریوں اور آئینی نوعیت کے فیصلوں میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سونے کی قیمتیں گر گئیں، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ جانیے

ذرائع کے مطابق اگر گورنر کی غیر موجودگی طویل ہوتی ہے تو کئی انتظامی امور ان کی وطن واپسی تک مؤخر رہ سکتے ہیں، جس سے حکومتی معاملات کے تسلسل پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر کی غیر موجودگی کے دوران قائم مقام گورنر کی تقرری صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ صوبے میں آئینی اور انتظامی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم تقاضا سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اس معاملے پر وضاحت اور بروقت فیصلہ انتظامی شفافیت کے لیے ضروری ہے۔

Scroll to Top