جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں رہائشی مکان پر ہونے والے کواڈ کاپٹر حملے نے ایک بار پھر شہری آبادی کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیدیا ہے۔
ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں ایک رہائشی مکان پر کواڈ کاپٹر حملے میں 3 شہری جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ محمد گل نامی شخص کے گھر پر کیا گیا، جہاں واقعے کے وقت اہلِ خانہ اور دیگر افراد موجود تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی افراد، رضاکاروں اور امدادی ٹیموں نے متاثرہ گھر سے زخمیوں کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ اچانک ہوا، جس کے نتیجے میں رہائشی مکان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور امدادی اداروں نے علاقے کا جائزہ لیا، جبکہ متاثرہ خاندان سے بھی رابطہ کیا گیا۔
اس واقعے کے حوالے سے بعض سیکیورٹی ذرائع نے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند گروہ ’’فتنہ الخوارج‘‘ پر عائد کی ہے۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کی مسلسل بڑی کامیابیوں نے خوارج کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اپنی ناکامی کا کو چھپانے کے لیے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تشویش کو اجاگر کرتا ہے کہ شورش سے متاثرہ علاقوں میں عام شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، تشدد کے واقعات سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
حکام کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، جبکہ زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندان کی امداد کے لیے متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔





