وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفرہدی نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی ترجیحات اور پالیسی واضح کرتے ہوئے کابینہ اراکین، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے خواہ وہ کسی بھی بااثر شخصیت کے قریب کیوں نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا اور اگر عوام مطمئن نہ ہوں تو بہترین پریزنٹیشنز بھی بے معنی ہوں گی۔
سہیل آفریدی نے تمام صوبائی وزراء کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے کریں، عوام سے براہِ راست رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لیں گے جبکہ شکایات کے بروقت ازالے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ اپنے کمپلینٹ سیلز قائم کرکے انہیں وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کریں، عمران خان کے وژن کی عکاسی کرنے والے تمام سگنیچر منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن
انہوں نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو حکومت کی ترجیحات کے مطابق تیز رفتاری سے مکمل کرنے، ڈی ایف سی اسکیموں کی بروقت تکمیل اور نئی ترقیاتی منصوبوں کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے کسی بھی معاملے پر رابطے کی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ سامنے آنا چاہیے۔
انہوں نے وزراء، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو باہمی رابطہ مضبوط بنانے، تمام فیصلے مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کرنے اور حکومتی اصلاحات و منصوبوں سے متعلق مؤثر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ تین ماہ بعد تمام محکموں کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔





