لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ٹرینی ڈاکٹرز کا رہائش نہ ملنے پر احتجاج، وزیراعلیٰ سے نوٹس کا مطالبہ

کاشف عزیز
پشاور: لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ٹرینی میڈیکل آفیسرز نے رہائشی سہولت نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔

احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ایمرجنسی، وارڈز اور آئی سی یو سمیت مختلف شعبوں میں 24 گھنٹے مریضوں کی خدمت انجام دیتے ہیں، تاہم ڈیوٹی کے بعد ان کے لیے ہسپتال میں رہائش کا کوئی انتظام نہیں۔

ان کے مطابق گزشتہ دو سال سے مرد ٹرینی میڈیکل آفیسرز کو ہاسٹل الاٹ نہیں کیے جا رہے، جبکہ دیگر افسران اور عملے کو رہائشی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق ہاسٹل میں کمرے موجود ہونے کے باوجود انہیں الاٹمنٹ نہیں دی جا رہی، جس کے باعث وہ ہسپتال کے اطراف خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سیکیورٹی کے مسائل بھی درپیش ہیں اور انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

احتجاج کے دوران ٹرینی ڈاکٹرز نے اپنے بستر ہسپتال کے باہر رکھ کر انتظامیہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور سوال اٹھایا کہ مسلسل خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں ان کا بنیادی حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔

ان کا مؤقف ہے کہ ان کے معاہدے کے مطابق یہ ملازمت رہائشی سہولت کے ساتھ ہے، لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں : وطن پر جان نچھاور کرنے والے لالک جان شہید آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ

ڈاکٹرز نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ روز ہسپتال کے ایچ ڈی آفس کے سامنے بھی احتجاج کریں گے اور رہائشی الاٹمنٹ نہ دینے کی وجوہات طلب کریں گے۔

دوسری جانب احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورے کے دوران ڈاکٹروں کو ہر صورت رہائش فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر اس کے برعکس ڈاکٹروں کو ہاسٹل کے کمروں سے نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ اپنے اعلان پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے متاثرہ ڈاکٹرز کو انصاف فراہم کریں گے۔

Scroll to Top