تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دیے گئے حالیہ بیان پر تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دھمکیوں کی زبان ترک کی جائے، بصورت دیگر ایران بھی بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ امریکا کے اس صدر سے مخاطب ہیں جو 9 کروڑ 10 لاکھ ایرانیوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، ورنہ ایران بھی اسی انداز میں جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
محمد باقر ذوالقدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کا انجام امریکا کے لیے ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات و جنگ بندی کی درخواست کی صورت میں سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں : روس کا کیف پر ایک اور بڑا میزائل حملہ، 24 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بہتر ہے، بصورت دیگر امریکا اس کا “کام تمام” کر دے گا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکی فوج صرف ایک گھنٹے میں ایران کے پل تباہ کر سکتی ہے، جبکہ چند ہی گھنٹوں میں ملک کے بجلی کے نظام اور پاور پلانٹس کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔





