فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نظام میں شفافیت، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور قیمتوں کے تعین کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے 56 مصنوعات پر ریٹیل قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم واضح طور پر درج کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
ایف بی آر نے اس حوالے سے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 8 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تھرڈ شیڈول میں شامل تمام اشیا کے مقامی مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان پابند ہوں گے کہ وہ ہر مصنوعات، پیکٹ، کنٹینر، پیکیج، کور یا لیبل پر ریٹیل قیمت اور قابلِ ادا سیلز ٹیکس کی رقم نمایاں، واضح اور مستقل انداز میں پرنٹ یا ایمبوس کریں۔
ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ صارفین کو مصنوعات کی اصل قیمت اور اس پر عائد ٹیکس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی ہدایات پر عمل درآمد سے نہ صرف صارفین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ٹیکس چوری، کم قیمت ظاہر کرنے اور غلط معلومات درج کرنے جیسے رجحانات کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 3 کی ذیلی شق (2A) کے تحت تھرڈ شیڈول میں شامل اشیا کی قابلِ ٹیکس سپلائی اور درآمدات پر ریٹیل بنیادوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جس کی تفصیلات بھی مصنوعات پر درج کرنا ضروری ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالے سے شفافیت میں اضافہ ہوگا، تاہم مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو نئی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے اپنے پیکیجنگ اور لیبلنگ سسٹم میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو صارفین کو درست قیمتوں کی معلومات میسر آئیں گی، جبکہ ٹیکس نظام مزید منظم اور شفاف بنانے میں بھی مدد ملے گی۔





