صحافت کے نام پر مذہبی منافرت اور بدتمیزی کے کلچر کو فروغ دینے والا ریحان طارق قانون کی گرفت میں آگیا

گزشتہ دنوں علامہ سید جواد نقوی کے ہمراہ ایک پوڈ کاسٹ میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے متنازع یوٹیوبر ریحان طارق کو قانون کی گرفت میں لے لیا گیا ہے۔

ریحان طارق پہلے ہی اپنے بدتمیز لہجے، تمسخرانہ انداز اور صحافت کے نام پر غلاظت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں تھا۔

محرم الحرام کی مناسبت سے کیے جانے والے اس پوڈ کاسٹ میں ریحان طارق نے جان بوجھ کر مقدس ہستیوں کے حوالے سے انتہائی متنازع اور حساس سوالات کیے تھےجس کے بعد تمام مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات اور غصے کا اظہار کیا گیا۔

اس متنازع پوڈ کاسٹ کے بعد ریحان طارق فوری طور پر لندن فرار ہو گیا تھا جہاں پبلک پریشر بڑھنے پر اس نے سوشل میڈیا پر معافی مانگنے کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کی تاہم عوامی اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے اس کے اس عمل کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے معافی مسترد کر دی گئی اور اس کی فوری گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پہلے ریٹنگ کے لیے متنازع کھیل، پھر معافی کا ڈرامہ رچا کر راہِ فرار؛ ریحان طارق کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ

اسی تناظر میں کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ رات جیسے ہی ریحان طارق لاہور ایئرپورٹ پہنچا نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں نے اسے فوری طور پر تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

Scroll to Top