یو اے ای حکومت کا کام کے اوقات سے متعلق بڑا فیصلہ

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی حکومت نے شدید گرمی کے پیش نظر کھلے مقامات پر کام کرنے والے ملازمین کے تحفظ کے لیے دوپہر کے اوقات میں کام پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پابندی 15 جون سے 15 ستمبر تک نافذ رہے گی۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق پابندی کے دوران دوپہر 12:30 بجے سے شام 3:00 بجے تک کھلی جگہوں اور براہِ راست دھوپ میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کو شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک اور دیگر موسمی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلسل 22ویں سال نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ملازمین کو محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اعلان کے مطابق تمام کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں ملازمین کے لیے سائے دار آرام گاہیں، پینے کا صاف اور ٹھنڈا پانی، پنکھوں سمیت دیگر ضروری سہولیات اور مناسب ہائیڈریشن کا انتظام یقینی بنائیں تاکہ کارکن شدید گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ بعض ضروری نوعیت کے کام اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ان میں ایسے تکنیکی کام شامل ہیں جنہیں فوری طور پر روکنا ممکن نہ ہو، جیسے اسفالٹ بچھانے یا کنکریٹ ڈالنے کے مخصوص مراحل۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد پولیس کی بھرتیوں پر اہم فیصلہ، آخری تاریخ میں توسیع

اسی طرح پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے کیے جانے والے ہنگامی مرمتی کام بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کی خصوصی اجازت سے جاری منصوبوں پر بھی یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت نے خبردار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہر متاثرہ ملازم کے حساب سے 5 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ متعدد خلاف ورزیوں کی صورت میں مجموعی جرمانہ 50 ہزار درہم تک پہنچ سکتا ہے۔

حکام نے تمام کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ اوقات کی مکمل پابندی کریں اور ملازمین کی صحت و سلامتی کو اولین ترجیح دیں تاکہ شدید گرمی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top