ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو سات روزہ سوگ اور متعدد شہروں میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریبات کے بعد مشہد میں روضہ امام علی رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
آخری رسومات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی جبکہ نمازِ جنازہ آیت اللہ سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے پڑھائی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا جسدِ خاکی خصوصی طیارے کے ذریعے مشہد پہنچایا گیا جہاں بڑی تعداد میں سوگواروں نے انہیں الوداع کہا۔
تدفین کے ساتھ ہی ملک بھر میں جاری سات روزہ عوامی سوگ بھی اختتام پذیر ہو گیا۔
اس سے قبل 4 اور 5 جولائی کو تہران میں الوداعی تقریبات منعقد ہوئیں جبکہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں بڑے تعزیتی جلوس نکالے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہد میں سپریم لیڈر کی نماز جنازہ کے دوران ایران کے کئی شہروں پر حملے
ان تقریبات میں شریک افراد ایرانی پرچم، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اور مختلف نعرے درج پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق عراق میں بھی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جہاں نجف میں روضہ حضرت علیؓ پر نمازِ جنازہ آیت اللہ سید محمد تقی الحکیم نے پڑھائی جبکہ بعد ازاں تاریخی جلوس کی صورت میں جسدِ خاکی کربلا بھی لے جایا گیا جہاں لاکھوں سوگوار موجود تھے۔





