سوات میں غیر قانونی زمرد کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

سوات کی ضلعی انتظامیہ نے تحصیل بابوزئی کے علاقوں راجہ آباد، زمرد کان محلہ اور ملحقہ علاقوں میں مبینہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات محب اللہ خان یوسفزئی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف و ہیومن رائٹس) نعمت اللہ، اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی سید ارحم مختار، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس غلام صادق، مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر زمرد کانوں میں مبینہ غیر قانونی کان کنی اور غیر محفوظ طریقہ کار سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانوں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ، اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کی نگرانی میں متعلقہ علاقوں کا تفصیلی معائنہ کرے گا۔ غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے علاوہ قانونی طور پر چلنے والی کانوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا تاکہ حفاظتی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پولیس اور مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ مقامات اور گھروں کی تلاشی لیں گے تاکہ غیر قانونی کان کنی اور معدنیات کے غیر قانونی ذخائر کی نشاندہی کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا غیر قانونی سونا نکالنے اور کان کنی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کان کنی سے متعلق تمام قوانین اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کو کارروائیوں اور معائنوں سے متعلق باقاعدہ رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

Scroll to Top