پاکستان کیلئے بڑی معاشی خبر، آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں مزید 3.6 ارب ڈالر فراہم کریگا

پاکستان کیلئے بڑی معاشی خبر، آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں مزید 3.6 ارب ڈالر فراہم کریگا

آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر فراہم کرے گا، اہم شرائط بھی سامنے آگئیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) آئندہ 14 ماہ کے دوران پاکستان کو مزید 3 ارب 60 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔ یہ رقم جاری قرض پروگرام کے تحت مختلف اقتصادی جائزوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔

دستاویزات کے مطابق آئی ایم ایف کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) پروگراموں کی مجموعی مالیت 8 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے، جن میں سے پاکستان کو اب تک 4 ارب 80 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 3 ارب 60 کروڑ ڈالر آئندہ 14 ماہ میں مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق دونوں پروگراموں کے تحت اگلا اقتصادی جائزہ ستمبر میں متوقع ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کا دورہ بھی کر سکتا ہے۔ اس جائزے میں معاشی اہداف، مالیاتی اصلاحات اور حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، بجٹ خسارہ کم کرنے، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی، سرکاری اداروں کی نجکاری، قرضوں کو پائیدار سطح پر لانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات بھی پروگرام کی اہم شرائط میں شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی، سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی اصلاحاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ستمبر 2027 تک ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی کے ذریعے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) پروگرام کے تحت 1.4 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت بھی پاکستان کو ملے گی۔

ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب پیش رفت سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اس کے لیے طے شدہ اصلاحاتی اقدامات پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہوگا۔

Scroll to Top