پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں عالمی منڈی سے بری خبر آگئی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں عالمی منڈی سے بری خبر آگئی

ایران، امریکا کشیدگی سے عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل، خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں شدید بے یقینی پیدا ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.68 ڈالر یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.65 ڈالر اضافے کے بعد 80 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح مربن خام تیل بھی بڑھ کر 80.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا، جو مئی 2020 کے بعد ایک روز میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

علاقائی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ عمانی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے پر دو اماراتی آئل ٹینکرز کو ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایرانی بحری نقل و حمل کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جن ممالک کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، انہیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے بحری اقدامات اور ایران کے ممکنہ جوابی ردعمل نے عالمی توانائی منڈی میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم خطے میں جاری کشیدگی نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مسلسل تیسری رات حملوں کی تصدیق کی، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس میں سات اور جزیرہ کیش میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی ترسیل کو نشانہ بنایا گیا تو خطے سے خام تیل کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا، ابتدائی سروے رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں کمی آئی، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں اضافے کا امکان ہے۔

عالمی توانائی مارکیٹ کی نظریں اب ایران، امریکا کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے اثرات تیل کی قیمتوں اور دنیا بھر میں توانائی کے اخراجات پر پڑ سکتے ہیں۔

Scroll to Top