مولانا فضل الرحمان اپنا غیر ذمہ دارانہ بیان واپس لے کر شہداء کے ورثاء اور پوری قوم سے معافی مانگیں،لیگی ایم این اے غزالہ انجم کا مطالبہ

چترال سے تعلق رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی غزالہ انجم نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ، بے وقت اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا ہے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے اپنا بیان فوری واپس لینے اور شہداء کے خاندانوں سمیت پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی غزالہ انجم نے اپنے بیان کہا کہ چار دہائیوں سے زائد اقتدار کے ایوانوں کا حصہ رہنے والے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین جیسے حساس عہدے پر فائز رہنے والے ایک زیرک سیاستدان کی جانب سے اپنے محافظوں اور شہداء کے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال انتہائی حیران کن اور ان کی سیاست سے نامطابقت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تنخواہیں ہر کوئی لیتا ہے لیکن اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے سرحدوں اور عوام کا تحفظ صرف پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے جوان ہی کرتے ہیں۔

غزالہ انجم نے پاک فوج کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قوم روزانہ اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی پر پرچمِ پاکستان چوم کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی ہے اور فخر سے کہتی ہے کہ ہم نے مٹی کا قرض ادا کر دیا۔ پانچ ماہ قبل لیفٹیننٹ کرنل گلفراز نے وطن پر جان قربان کی اور چند دن قبل اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے ایک قابل افسر نے کسی کی بیٹی کی عزت بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں براہِ راست پاکستان پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اسی لیے اب افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، خوارج کو فنڈز اور اسلحہ دیا جا رہا ہے، جبکہ بی ایل اے کو متحرک کر کے اور کشمیر میں انتشار پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے لبنان اور دیگر غیر مستحکم اسلامی ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک کے پاس منظم فوج نہیں ہوتی وہاں کی عوام عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس ایک بہادر اور منظم فوج موجود ہے جو فضائی، سمندری اور زمینی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خوارج کے خلاف جاری جنگ اور آپریشن شعبان اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور کامیابی ریاست و افواجِ پاکستان کا مقدر بنے گی۔

رکن قومی اسمبلی نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب ہماری افواج دہشت گردوں کے خلاف شجاعت کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان فوج کے حوصلے پست کرنے کی ایک ناکام کوشش اور شہداء کے ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا اخلاقی بے حسی،شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے،مولانا فضل الرحمان کے بیان پر خواجہ آصف کا سخت ردعمل

انہوں نے مطالبہ کیاکہ مولانا صاحب کو فوراً اپنے الفاظ واپس لے کر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

Scroll to Top