آذربائیجان میں 63 سالہ خاتون نے تقریباً 38 سال کے طویل انتظار کے بعد اپنے پہلے بچے کو جنم دے کر ایک منفرد مثال قائم کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے کئی برس تک قدرتی طور پر حاملہ ہونے کی کوشش کی، تاہم کامیابی نہ ملنے پر انہوں نے معاون تولیدی ٹیکنالوجی سے رجوع کیا۔ جدید طبی علاج اور مسلسل نگرانی کے نتیجے میں وہ پہلی مرتبہ ماں بننے میں کامیاب ہوئیں۔
معالجین کے مطابق 63 سال کی عمر میں حمل کو طبی اعتبار سے انتہائی حساس اور پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے حمل کے آغاز سے لے کر ولادت تک خاتون کی مسلسل طبی نگرانی کی گئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس عمر میں ہائی بلڈ پریشر، حمل کے دوران ذیابیطس، قبل از وقت پیدائش اور سیزیرین آپریشن جیسے خطرات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں، تاہم بروقت طبی دیکھ بھال کے باعث ماں اور نومولود دونوں کی صحت تسلی بخش رہی۔
طبی ٹیم نے اس کامیاب ولادت کو اپنے ادارے کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ زرخیزی کے ماہرین، ماہر امراضِ نسواں، نرسنگ اسٹاف اور نومولود بچوں کے ماہرین کی مشترکہ کاوشوں سے یہ ممکن ہو سکا۔ ان کے مطابق اگرچہ 60 سال سے زائد عمر میں حمل انتہائی نایاب ہوتا ہے، لیکن جدید طبی سہولیات، محتاط منصوبہ بندی اور مناسب مریضوں کے انتخاب کے ذریعے بعض کیسز میں کامیاب نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے صارفین نے خاتون کو مبارکباد دی اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ متعدد افراد نے اس واقعے کو طویل عرصے سے اولاد کے منتظر جوڑوں کے لیے امید کی کرن قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے جدید تولیدی طب کی نمایاں کامیابی سے تعبیر کیا۔
دوسری جانب طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہوتے ہیں اور انہیں معمول کی طبی مثال نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق زیادہ عمر میں حمل اور علاج کا فیصلہ مریض کی مجموعی صحت، طبی خطرات اور دیگر انفرادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف جدید طبی سائنس کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی امید کا پیغام ہے جو طویل عرصے سے اولاد کی خواہش رکھتے ہیں۔





