ضم اضلاع میں ٹیکس کے فیصلے پر تشویش، خیبرپختونخوا حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے بلا لیا

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر آج اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جائے گی۔

شفیع جان کے مطابق اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا، ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب ارکان اسمبلی، تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت، قبائلی عمائدین اور تاجر برادری کے نمائندگان کو مدعو کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں باہمی مشاورت کے ذریعے ایک متفقہ اور قابل عمل لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا، تاہم وفاق کے ٹیکس نفاذ کے فیصلے پر عوام اور تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاق نے ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق فنڈز فراہم نہیں کیے، جس کے باعث یہ علاقے مالیاتی طور پر مکمل طور پر خیبرپختونخوا میں ضم نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات،مالاکنڈ ٹیکسز پر نظرثانی کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کو جائز مالی حصہ نہ ملنے کے باعث ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وفاق کو محرومیوں کے ازالے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

شفیع جان نے کہا کہ ضم اضلاع دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں کے عوام آج بھی معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

Scroll to Top