حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر اعلان کرنے کے فیصلے پر پیٹرول پمپ مالکان کا شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی مجوزہ پیٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آئندہ ہفتے سے ملک گیر احتجاج اور ہڑتال پر غور کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعمان علی بٹ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام میں کی جانے والی ان مجوزہ تبدیلیوں پر ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پیٹرول پمپ مالکان کو شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور پیٹرول پمپ مالکان پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
نعمان علی بٹ کا مزید کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوںکے ساتھ ریٹس طے کرنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا حساس نظام صرف کسی ایک فریق کے یکطرفہ فیصلے سے نہیں چلایا جا سکتا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس مجوزہ ڈی ریگولیشن پالیسی سے آئل ٹینکرز، ٹرانسپورٹیشن نظام اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مجموعی طریقہ کار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس لیے حکومت یکطرفہ فیصلوں کے بجائے پیٹرول پمپ مالکان اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں سے باقاعدہ مشاورت کرے۔
چیئرمین پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر یہ مجوزہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا اور ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ایسوسی ایشن آئندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال کا آپشن استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ پیٹرولیم شعبے سے وابستہ تمام فریقین کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی متوازن پالیسی وضع کی جائے جو صارفین، کاروباری برادری اور ملکی معیشت سب کے مفاد میں ہو۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا فیصلہ
یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا پرانا نظام تبدیل کرتے ہوئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس نئے فیصلے کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو اوگرا کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔





