پاکستانی آل راؤنڈر محمد نواز کو سزا سنا دی گئی

دبئی: پاکستانی آل راؤنڈر محمد نواز کو آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی نااہلی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ممنوعہ مادے کی موجودگی کی تصدیق کے بعد سزا کا اعلان کیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ 7 فروری 2026 کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کے بعد لیا گیا تھا، جس کے نمونے میں ممنوعہ مادہ کاربوکسی-ٹی ایچ سی پایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق محمد نواز نے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کا اعتراف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ممنوعہ مادہ کھیل میں کارکردگی بہتر بنانے کے مقصد سے استعمال نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے استعمال کی وجہ مختلف تھی۔

آئی سی سی نے کھلاڑی کے مؤقف اور وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر تین ماہ کی معطلی عائد کی، جس کا اطلاق یکم مئی 2026 سے کیا گیا، جب محمد نواز نے رضاکارانہ طور پر عارضی معطلی قبول کی تھی۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اگر محمد نواز منشیات سے متعلق علاج کے مقررہ پروگرام کو کامیابی سے مکمل کر لیتے ہیں تو ان کی سزا کم ہو کر صرف ایک ماہ رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ٹمبر مافیا کے خلاف کارروائی، سوات میں 60 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

چونکہ آل راؤنڈر پہلے ہی تقریباً ڈھائی ماہ کی معطلی مکمل کر چکے ہیں، اس لیے پروگرام مکمل ہونے کی صورت میں انہیں مزید پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

آئی سی سی نے مزید واضح کیا کہ 7 فروری سے یکم مئی 2026 تک محمد نواز کے تمام کرکٹ ریکارڈز کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

محمد نواز پاکستان کرکٹ ٹیم کے اہم آل راؤنڈرز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی معطلی کے باعث ان کی آئندہ کرکٹ سرگرمیوں پر اثر پڑے گا۔

Scroll to Top