سعودی عرب کی سربراہی میں کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 14 ممالک نے اعلامیے پر دستخط کر دیے

باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں بین الاقوامی جہاز رانی، تجارتی راہداریوں اور سمندری انفراسٹرکچر کو درپیش خطرات کے سدِ باب کے لیے سعودی عرب کی زیرِ قیادت ایک بڑے بین الاقوامی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر پیشرفت کر لی گئی ہے۔

اس سلسلے میں سعودی وزارتِ دفاع کی میزبانی میں ہونے والے اہماجلاس میں پاکستان سمیت 43 ممالک کے چیفس آف اسٹاف، اعلیٰ نمائندوں اور یورپی یونین کے وفد نے بالمشافہ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران تجارتی جہازوں اور تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے حملوں سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام شرکاء نے عالمی سپلائی چین کے استحکام اور بحری روٹس کی حفاظت کے لیے کثیر القومی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں تمام ممالک نے متفقہ طور پر سعودی عرب کو اس نئے بحری اتحاد کا بانی، قائد اور مرکزی ہیڈکوارٹر کا میزبان ملک نامزد کرنے کی منظوری دی جو سمندری تحفظ کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

اجلاس کے اختتام پر پاکستان، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی مکمل حمایت کی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں شریک دیگر ممالک بھی اتحاد کی اصولی حمایت کر چکے ہیں اور اپنے قومی قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد مرحلہ وار اس اعلامیے میں شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کیلئے بڑی خوشخبری! سعودی عرب نے 5 ارب ڈالر کا قرض 3 سال کیلئے رول اوور کردیا

اجلاس میں بحری اتحاد کے مسودہ چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور آپریشنل طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق آنے والے دنوں میں عسکری منصوبہ ساز اور تکنیکی ٹیمیں اتحادی دستاویزات اور آپریشنل فریم ورک کو حتمی شکل دیں گی جس کے بعد اتحاد کا باضابطہ چارٹر سائن کیا جائے گا اور سمندری سیکیورٹی کے عملی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

Scroll to Top