خیبر پختونخوا میں 18 فیصد سیلز ٹیکس کی عدم وصولی پر وفاق کا نوٹس

پشاور: خیبر پختونخوا میں سولر پینلز اور متعلقہ سامان کی خرید و فروخت پر 18 فیصد فیڈرل سیلز ٹیکس کی عدم شمولیت پر وفاق نے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی محکمہ خزانہ کو متنبہ کردیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریجنل ٹیکس آفس پشاور نے خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ کو خط لکھ کر نشاندہی کی ہے کہ صوبائی مارکیٹ ریٹ سسٹم (ایم آر ایس) میں 18 فیصد فیڈرل سیلز ٹیکس شامل نہ کیے جانے کے باعث قومی خزانے کو سنگین مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

آر ٹی او پشاور کے ودہولڈنگ ٹیکس زون کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے فنانس سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر سولر پینلز اور متعلقہ سامان کی خرید و فروخت میں سیلز ٹیکس کا عدم اندراج وفاقی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت پاکستان میں تمام قابل ٹیکس سپلائیز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی محکمے بطور ودہولڈنگ ایجنٹ ادائیگی کے وقت انوائس میں ظاہر کردہ سیلز ٹیکس کا پانچواں حصہ بطور ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کے پابند ہیں۔

خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر گورنر خیبر پختونخوا اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے بھی صوبائی حکومت کو مراسلے ارسال کیے جاچکے ہیں۔ خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ بھی تمام خریدار ایجنسیوں کو سیلز ٹیکس کی وصولی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور میں نئی احساس پناہ گاہ کا افتتاح، مستحق افراد کے لیے مفت رہائش اور خوراک کی سہولت

ایف بی آر کے مطابق محکمہ خزانہ کے ایک سیکشن آفیسر کی جانب سے جاری حالیہ وضاحتی مراسلے نے پہلے سے طے شدہ معاملے پر دوبارہ ابہام پیدا کردیا ہے، جبکہ جنوری 2026 میں ہونے والے اجلاس کے بعد بھی اس معاملے پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

وفاقی ٹیکس اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت نے مارکیٹ ریٹ سسٹم میں فوری طور پر 18 فیصد سیلز ٹیکس شامل نہ کیا تو ایف بی آر یہ معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عطیہ دہندہ ایجنسیوں کے سامنے اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

ایف بی آر نے صوبائی محکمہ خزانہ سے معاملے پر فوری کارروائی اور ٹیکس قوانین کے مطابق سیلز ٹیکس کی شمولیت و وصولی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Scroll to Top