مشترکہ دفاعی معاہدہ خوش آئند، ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل ہونا چاہیے، امیر جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کے مسائل موجود ہیں، حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کی جانب توجہ دیں۔

اگر ملک میں دہشت گردی کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ ہے تو حکومت نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم فراہم کرے، کیونکہ تعلیم اور روزگار کی سہولت میسر ہو تو کوئی نوجوان دہشت گردی کی طرف نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں حالات سازگار بنائے، افغانستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کیے جائیں، افغان حکومت کو بھی اپنی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان وفود کے تبادلے ہونے چاہئیں اور ٹھوس بنیادوں پر امن کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

بارڈر کے آر پار تاجروں اور قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ قائم کیا جائے جو سرحدی تجارت اور بارڈر پر امن و امان کے قیام میں بھی کردار ادا کرے، امیر جماعت اسلامی نے وادی تیراہ اور راجگال کے متاثرین کی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: فزیکل ویری فکیشن کے باوجود 538 ہیلتھ ملازمین کی تنخواہیں بند: شمالی وزیرستان میں پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کا احتجاج

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا گیا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا میں کہیں اتنی نہیں بڑھیں جتنی پاکستان میں بڑھائی گئی ہیں۔ جنگ سے قبل پٹرول 258 روپے فی لیٹر تھا لیکن اب اس قیمت کو واپس نہیں لایا جا رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے وصول کیے تاہم اس رقم میں سے ایک ارب روپے بھی آئل ریفائنری لگانے کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت بدستور ریفائنڈ تیل درآمد کر رہی ہے اور خام تیل کو ملک میں صاف کرنے کا منصوبہ بھی قابلِ عمل نہیں بنایا جا سکا، گزشتہ سال 1700 ارب روپے کے بجائے 1900 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 7 اگست کو کامیاب احتجاج کیا گیا اور کہیں کوئی دنگا نہیں ہوا۔ منظم احتجاج انقلاب کی طرف بڑھتا ہے، 7 اگست کے احتجاج نے ملکی سیاست کا تعین کردیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی بالکل ختم کی جائے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس بھی ختم کیے جائیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 16 ستمبر کو ملک بھر میں گورنر ہاؤسز اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

Scroll to Top