وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقامی تیل اور گیس کے وسائل سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا، اگر مقامی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جاتا تو عالمی منڈی کی قیمتوں پر انحصار کم کیا جا سکتا تھا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ عوام کو سستی، شفاف اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی بنیادی قومی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کے لیے مقامی وسائل کی ترقی ناگزیر ہے۔ وزیرستان اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جبکہ نشپہ سمیت مختلف علاقوں میں تیل کے ذخائر بھی موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی روزانہ تیل کی ضرورت تقریباً 5 لاکھ بیرل ہے، جبکہ ملکی پیداوار سے روزانہ تقریباً 70 ہزار بیرل تیل حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی وسائل کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزروز کا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ 80 برس کے دوران پاکستان میں اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر قائم نہیں کیے جا سکے، تاہم اب اس مقصد کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق عالمی کمپنی میک کِنزی کو اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزروز کے قیام کے حوالے سے مطالعے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ عالمی ماہرین تین ماہ میں پٹرولیم ذخائر کے بنیادی ڈھانچے اور دستیاب وسائل سے متعلق اپنی تجاویز پیش کریں گے، جس کے بعد اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزروز کے نظام کے قیام سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے خام تیل کے ذخائر رکھنے کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ زیرِ زمین پٹرولیم ذخیرہ بنانے پر 300 سے 400 ملین ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ مجموعی طور پر اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر کے قیام کے لیے ایک ارب ڈالر تک وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا، پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں برقرار رہیں گی یا بڑھیں گی؟
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار زیر غور ہیں۔ سعودی عرب، کویت اور قطر کے تعاون سے پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے تحت خلیجی ممالک اپنے خرچ پر پاکستان میں محفوظ تیل ذخیرہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ذخیرہ کیا گیا تیل ضرورت کے وقت عالمی منڈی میں فراہم کیا جا سکے گا، جبکہ جنگی صورتحال میں پاکستان کو ذخیرہ شدہ تیل خرید کر استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کمرشل بانڈڈ آئل اسٹوریج اسکیم تیار کی گئی ہے، جو آرامکو اور بڑی عالمی تیل کمپنیوں کے تعاون سے تیار کی گئی۔ یہ اسکیم اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کردی گئی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزروز پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہیں اور عالمی ماہرین کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذخائر کے نظام کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔





