اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوڈان میں جاری تنازع بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور امدادی فنڈز کی کمی کے باعث ملک بھر میں انسانی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے)نے گزشتہ روز بیان میں کیا، رپورٹ کے مطابق شمالی کردفان ریاست کے دارالحکومت الابیض کے اطراف بدامنی بدستور شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے جس کے باعث نقل مکانی اور انسانی امداد کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت کے گرد مشکل سکیورٹی صورتحال کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار الابیض میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچا رہے ہیں،او سی ایچ اے کے مطابق شہر میں پانی کی شدید قلت کے دوران امدادی کارکنوں نے تقریباً 20 لاکھ لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جس سے تقریباً 1 لاکھ 33 ہزار افراد مستفید ہوئے۔
یواین سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ کے ذاتی ایلچی پیکا ہاویستو نے خانہ جنگی کے دونوں فریق یعنی سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف ) کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں، ان ملاقاتوں کا مقصد فریقین کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی جانب پیش رفت اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پیکا ہاویستو کی ملاقاتوں میں اقوام متحدہ کے علاقائی شراکت دار بشمول افریقی یونین، عرب لیگ اور انٹرگورنمنٹل اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ بھی شامل رہے ہیں۔
ریاست مغربی دارفور میں عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا کہ سربا کے علاقے میں گزشتہ ہفتے سے جاری لڑائی کے نتیجے میں 20 سے زائد دیہات سے اندازاً 18 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اطلاعات کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد سرحد عبور کرکے چاڈ چلے گئے ہیں۔





