وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مختلف آئینی آپشنز موجود ہیں اور ایمرجنسی کا آپشن بھی موجود ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نظر نہیں آرہے، ان پر تلواریں لٹک رہی ہیں، مختلف آئینی آپشنز کے تحت ان کی جگہ کوئی اور آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کہہ رہی ہے کہ مارچ ہماری مرضی سے ہوگا، تاہم حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت چاہتی ہے۔ بیرسٹر عقیل کے مطابق بیرسٹر گوہر اور محمود اچکزئی بھی بات چیت چاہتے ہیں اور حکومت افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنا چاہتی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی قیادت کی وجہ سے دہشتگردی ہو رہی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور صوبے میں کرائم اور سیاسی لوگوں کا گٹھ جوڑ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی سے پختونخوا پریشان، ٹی ٹی پی کا خطرہ برقرار، سہیل آفریدی اسلام آباد چڑھائی کیلئے سرگرم
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی کابینہ پر مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج ہوں گے۔





