درد کی دوا کی زائد مقدار سے 20 سالہ طالب علم کے کئی اعضا ناکارہ ہوگئے

برطانیہ میں 20 سالہ طالب علم رائیلی لوباس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے پیراسیٹامول کی زائد مقدار کے خطرات کو اجاگر کردیا۔

رائیلی کو شدید نزلہ زکام ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دو مختلف ادویات استعمال کیں، تاہم انہیں معلوم نہیں تھا کہ دونوں ادویات میں پیراسیٹامول شامل ہے۔

دونوں ادویات ایک ساتھ استعمال کرنے کے بعد رائیلی کی طبیعت تیزی سے خراب ہونے لگی اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی معائنے میں معلوم ہوا کہ ان کا جگر درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔ حالت بگڑنے پر ان کے پھیپھڑے اور گردے بھی متاثر ہوئے، جبکہ انہیں لائف سپورٹ، وینٹی لیٹر اور ڈائیلاسس پر منتقل کرنا پڑا۔

رائیلی کے والدین کے مطابق ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کا جگر تیزی سے ناکارہ ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بعد ازاں رائیلی کو مزید علاج کے لیے لندن کے کنگز کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔

ڈاکٹروں نے بعد میں استعمال کی جانے والی دونوں ادویات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ دونوں میں پیراسیٹامول موجود تھا۔ اسی وجہ سے رائیلی نے غیر ارادی طور پر دوا کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار استعمال کرلی تھی۔

کئی ہفتوں تک اسپتال میں زیر علاج رہنے اور مسلسل طبی نگرانی کے بعد رائیلی کی حالت میں بہتری آئی اور وہ دوبارہ چلنے اور بولنے کے قابل ہوگئے۔ اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں اور ایک پب میں بارٹینڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دوائیوں کے بغیر بلڈ پریشر کم کرنے کا آسان اور قدرتی نسخہ

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق پیراسیٹامول کی زائد مقدار جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ابتدائی علامات میں متلی، قے اور پیٹ میں درد شامل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین صحت لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ نزلہ، زکام یا درد کی مختلف ادویات استعمال کرنے سے پہلے ان کے اجزا ضرور چیک کریں، کیونکہ بیک وقت کئی ایسی ادویات لینے سے پیراسیٹامول کی مجموعی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔

۔۔۔بشکریہ(بی بی سی)

Scroll to Top