سائنسدانوں نے دماغ میں موجود ایک ایسے ریسیپٹر کا راز دریافت کرلیا ہے جسے بظاہر دو مختلف طریقوں سے ہدف بنا کر بھی وزن کم کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت موٹاپے کے مزید مؤثر علاج کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ دماغ کے مختلف حصوں میں موجود GIP ریسیپٹر کو فعال یا بلاک کرنے سے وزن میں کمی کے الگ الگ راستے متحرک ہوتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر میٹابولزم میں شائع ہوئے ہیں۔
محققین کے مطابق دماغ کے نچلے حصے یعنی برین اسٹیم میں GIP ریسیپٹر کو فعال کرنے سے بھوک کم ہوئی، جبکہ دماغ کے ایک اور اہم حصے ہائپوتھیلمس میں اسی ریسیپٹر کو بلاک کرنے سے پیٹ بھرنے کے سگنلز پر موجود ایک طرح کی رکاوٹ ختم ہوئی، جس کے نتیجے میں وزن کم ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس معمہ کو حل کرتی ہے کہ بعض ادویات ایک ہی ریسیپٹر پر مخالف انداز میں اثر ڈالنے کے باوجود وزن کم کرنے میں کامیاب کیوں ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لمبی عمر اور وزن میں کمی کا راز؟ روزانہ کافی پینے کے مثبت اثرات سامنے آگئے
موجودہ دور میں ویگووی اور اوزمپک جیسی ادویات GLP-1 ریسیپٹر کو ہدف بناتی ہیں، جبکہ مونجارو اور زیپ باؤنڈ جیسی ادویات GLP-1 کے ساتھ GIP ریسیپٹر پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
محققین کے مطابق GIP کو ہدف بنانے والے مختلف طریقوں کو GLP-1 پر مبنی ادویات کے ساتھ ملا کر مستقبل میں موٹاپے کے خلاف زیادہ مؤثر علاج تیار کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم موجودہ نتائج چوہوں پر ہونے والی تحقیق پر مبنی ہیں اور انسانوں میں اس طریقہ کار کی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہوگی۔





