حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تمام مستحقین کو رواں سال ڈیجیٹل والٹس فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان والٹس کے ذریعے مستحقین رقم وصول کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ڈیجیٹل اور مالیاتی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے زیڈ والٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے حکومت، سرکاری اور نجی شعبہ مل کر اقدامات کررہے ہیں، جبکہ بی آئی ایس پی کے تمام مستحقین کو ڈیجیٹل والٹس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں راست (Raast) نے اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت اس نظام کو مزید آسان اور عوام دوست بنانے پر کام کررہی ہے۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت استعمال کرنے والے تاجروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف آئی اے میں 34 اسامیوں پر بھرتی، درخواستیں 31 اگست تک طلب
وزیر مملکت نے بتایا کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) پر سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جبکہ سرکاری ادائیگیوں کو بھی ڈیجیٹل بنانے کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
ان کے مطابق سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد جبکہ سیلف اکاؤنٹنگ اداروں میں یہ شرح 5 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو پہلے ہی ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔ نئے ڈیجیٹل والٹس کو بینک اکاؤنٹ کی طرح استعمال کیا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مستحقین یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، رقم کی منتقلی اور دیگر مالیاتی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھاسکیں گے۔
حکومت کے مطابق سرکاری ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا مقصد مالی نظام میں شفافیت، سہولت اور مؤثریت کو مزید بہتر بنانا ہے۔





