شہزاد نوید
سوات کے علاقے کبل میں 2 اگست کو پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے لیاقت علی سکنہ گالوچ پشاور کے اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق لیاقت علی کو دھماکے کے فوراً بعد تشویشناک حالت میں پشاور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ کئی روز سے زیرِ علاج تھے، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کبل میں ہونے والے خودکش حملے میں مجموعی طور پر 20 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں لیاقت علی کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔
لیاقت علی کے انتقال کے بعد ان کی نمازِ جنازہ آبائی علاقے گالوچ میں ادا کی گئی، جس میں پولیس افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کے انتقال پر علاقے میں فضا سوگوار رہی۔
یاد رہے کہ کبل پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ چکی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق دھماکے میں مزید 2 زخمی پولیس اہلکار دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، جس کے بعد شہداء کی تعداد 18 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کی سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش حملے کی مذمت
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 7 پولیس اہلکار اور 10 عام شہری شامل ہیں، جبکہ سیدو شریف اسپتال میں دھماکے سے زخمی ہونے والے 10 افراد زیرِ علاج ہیں۔ زیرِ علاج زخمیوں میں 8 پولیس اہلکار اور 2 شہری شامل ہیں، جبکہ 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
کبل خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس ٹریننگ اسکول سوات میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی، جس میں پولیس حکام سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
پولیس ترجمان کے مطابق کبل خودکش دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا ہے، جس میں نامعلوم دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔





