خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں گھی، خوردنی تیل اور دودھ کی مصنوعات کے 491 نمونوں کی جانچ میں متعدد اشیا غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں پیک شدہ دودھ کے تمام نمونے معیار پر پورا نہ اتر سکے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، پی سی ایس آئی آر کی جانب سے اشیاء خوردونوش کے بارے میں رپورٹ اجلاس میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پیک شدہ دودھ کے 26 نمونوں میں چکنائی مقررہ معیار سے کم پائی گئی، دودھ کے پاؤڈر کے 8 نمونوں میں پروٹین کی مقدار مطلوبہ معیار سے کم ریکارڈ ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں گھی کے 79.4 فیصد، سندھ میں 63.3 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 58.3 فیصد نمونے غیر معیاری قرار پائے، خیبرپختونخوا میں پیک شدہ دودھ کے تمام نمونے معیار پر پورا نہ اتر سکے۔
پی سی ایس آئی آر کی رپورٹ وزارتِ غذائی تحفظ کو بھجوانے اور سہ ماہی مانیٹرنگ نظام قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے غیر معیاری خوراک کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ مشترکہ کوالٹی کنٹرول نظام قائم کرنے کی ہدایت کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ نوجوانوں میں دل کے امراض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری خوراک ہے، غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دیہی منڈیوں کو بھی خوراک کے معیار کی نگرانی کے نظام میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی،احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی 80 فیصد آبادی گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتی ہے۔
اوگرا کی رپورٹ میں ایل پی جی کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں نمایاں فرق کی نشاندہی کا بھی انکشاف ہوا ہے، کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا کو ایل پی جی کی قیمتوں کا مسئلہ تین روز میں حل کرنے کی ہدایت کردی۔





