سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہمیشہ آئین اور جیل مینول کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
عمران خان کو جیل میں تمام مقررہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں، جن میں علیحدہ بلاک، ایئر کولر، بستر، مشقتی، ذاتی کک اور خوراک کے علاوہ اخبارات اور کتب کی فراہمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جیل مینول کے تحت ان کی دیکھ بھال اور طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا۔
دوسری جانب، تحریری ضمانت کے باوجود بعض سیاسی عناصر اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہنے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے اسپتال کے باہر رش لگانے، نمائش سے گریز کرنے اور سیاسی بیان بازی سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان سول ایوارڈز 2026: خیبر پختونخوا حکومت نے 50 نامزدگیاں وفاق کو ارسال کر دیں
اس صورتحال میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان ہدایات پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے کیونکہ اسپتال کے باہر جاری براہِ راست نشر و اشاعت اور ماحول سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا تاثر ابھر سکتا ہے۔





