ٹرمپ کی ایران سے تجارت کرنے والوں کو پابندیوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی سخت اقتصادی نتائج کی دھمکی دے دی، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کو معاشی سہارا فراہم کرے گا، اسے امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی دھمکی کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتیں مسلسل چھٹے روز بڑھیں، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 6 فیصد سے زیادہ اور امریکی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ قرار دیا جارہا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں ایران کی تیل برآمدات کو مزید محدود کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ، نئی قیمت 303 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر

ایران پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی تیل سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں چین سب سے نمایاں ہے۔ رائٹرز کے مطابق چین نے 2025 میں ایران سے تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا تھا، جس کے باعث نئی امریکی پابندیاں بیجنگ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

ترکی، عراق، عمان، پاکستان اور بھارت بھی ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کی مکمل تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ان ممکنہ اقدامات کو ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیوں میں شمار کیا ہے۔

Scroll to Top