خیبرپختونخوا حکومت کا عالمی بینک سے 25 کروڑ ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سیلاب سے نمٹنے اور صوبے میں فلڈ ریزیلینس مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک سے 25 کروڑ ڈالر، یعنی تقریباً 69 ارب روپے کا نیا قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قرض کی منظوری صوبائی کابینہ سے حاصل کی جائے گی۔

عالمی بینک کی پروجیکٹ انفارمیشن دستاویز کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے کے منتخب اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کو قدرتی آفات کے اثرات سے محفوظ بنانا اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار بہتر کرنا ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت اور فنانسنگ 25 کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس کی مکمل رقم عالمی بینک فراہم کرے گا۔

منصوبے پر عملدرآمد میں صوبائی محکمہ آبپاشی کے ساتھ محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری بھی شامل ہوگا۔

سیلاب سے بچاؤ کے لیے بنیادی ڈھانچہ

منصوبے کے پہلے بڑے حصے کے لیے تقریباً 19 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت سیلاب سے بچاؤ کے لیے مختلف بنیادی ڈھانچے تعمیر اور بحال کیے جائیں گے۔

ان منصوبوں میں حفاظتی پشتے، فلڈ کیریئر چینلز، اسپرس، ریٹیننگ والز، ریویٹمنٹ، کمیونٹی ڈائیکس اور چیک ڈیمز شامل ہیں۔ جہاں ممکن ہوگا، سیلاب سے بچاؤ کے لیے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل بھی استعمال کیے جائیں گے۔

فلڈ وارننگ سسٹم مزید مضبوط ہوگا

منصوبے کے تحت صوبے بھر میں فلڈ وارننگ اینڈ فورکاسٹنگ سسٹم بھی قائم کیا جائے گا، جس سے ہائیڈرومیٹرولوجیکل ڈیٹا کی بروقت وصولی، ترسیل اور تجزیے کو بہتر بنایا جائے گا۔

موجودہ ٹیلی میٹری اور مشاہداتی نظام کو توسیع دی جائے گی، جبکہ سیلاب کی پیش گوئی کی صلاحیت بھی بہتر بنائی جائے گی۔

اس کے علاوہ محکمہ آبپاشی، پی ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ سیلاب کے خطرے کی صورت میں بروقت اقدامات ممکن ہوسکیں۔

اداروں اور عوام کی استعداد بڑھانے پر بھی رقم خرچ ہوگی

منصوبے کے دوسرے حصے کے لیے تقریباً 5 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے صوبائی اداروں اور مقامی آبادی کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔

منصوبے کا مقصد نہ صرف سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ہے بلکہ خیبرپختونخوا میں مستقبل کے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مستقل اور مؤثر نظام بھی تیار کرنا ہے۔

Scroll to Top