اسلام آباد: 2007 میں امریکی سفیر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق امریکی سفارتی رپورٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آگئی ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکی سفیر نے 20 نومبر 2007 کو مولانا فضل الرحمان سے ظہرانے پر ملاقات کی، جس میں پاکستان کی سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات، ایمرجنسی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کردار سمیت متعدد امور پر گفتگو ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا پاکستان میں ایمرجنسی کے خاتمے اور آزاد و منصفانہ انتخابات کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
فضل الرحمان نے آزاد اور شفاف انتخابات کی حمایت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔
دستاویز میں درج ہے کہ فضل الرحمان نے ممکنہ طور پر وزیراعظم بننے کی صورت میں امریکی حمایت سے متعلق بھی بات کی تھی۔ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ اگر وہ وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ امریکی حمایت چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آئین سے متصادم قانون سازی قبول نہیں، سیاسی مداخلت بھی مسترد کرتے ہیں، فضل الرحمان
سفارتی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں اس وقت کی سیاسی رہنما بے نظیر بھٹو سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ فضل الرحمان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے مذہبی رہنماؤں سے متعلق حالیہ بیانات کے باعث انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ دوبارہ ان کے ساتھ کام کرسکتے ہیں یا نہیں۔
دستاویز میں قبائلی علاقوں اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا بھی ذکر ہے۔ فضل الرحمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث بعض اضلاع میں انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں، جس سے ان کی جماعت کے ووٹ متاثر ہونے کا امکان ہے۔
امریکی سفارتکار کے تجزیے کے مطابق فضل الرحمان آئندہ انتخابات میں ممکنہ طور پر کنگ میکر کا کردار ادا کرسکتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعظم سواتی اور ملک سکندر خان سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
واضح رہے کہ یہ دستاویز 2007 کی امریکی سفارتی رپورٹ ہے، جس میں اس وقت کے امریکی سفارتکاروں کی رپورٹنگ، مشاہدات اور تجزیے شامل ہیں۔





