گوگل پر کونسی چیزوں کی تلاش آپ کے لیے مصیبت بن سکتی ہے؟

انٹرنیٹ پر معلومات کی تلاش کے لیے گوگل کا استعمال روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے تاہم ماہرینِ نفسیات اور سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ انجن پر ہر قسم کے سوال کا جواب ڈھونڈنا بعض اوقات شدید نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

بعض حساس اور غلط موضوعات کی آن لائن سرچ انسان کو شدید ذہنی دباؤ، نفسیاتی بیماریوں اور قانونی مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہے۔

طبی اور ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والی ہدایات کے مطابق چند مخصوص امور سے آن لائن گریز کرنا نہایت ضروری ہے۔ معمولی جسمانی تکلیف، سر درد یا تھکاوٹ کی علامات انٹرنیٹ پر تلاش کرنے سے اکثر اوقات عام سی بیماری کو بھی مہلک مرض قرار دے دیا جاتا ہے، جس سے صارف سائبر کونڈریایعنی بیماریوں کے بے بنیاد وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کینسر جیسی بیماریوں کی علامات آن لائن پڑھنے سے بچنا چاہیے کیونکہ کینسر کی ابتدائی علامات عام انفیکشنز سے مشابہت رکھتی ہیں اور مستند تشخیص صرف لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اسلحہ سازی، دہشت گردی یا مجرمانہ اقدامات سے متعلق کی ورڈز کی سرچنگ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں ان تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتی ہیں اور محض تجسس کی بنا پر کی گئی سرچ بھی شدید قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ خوفناک جانوروں، زہریلے سانپوں یا حشرات کی ویڈیوز اور معلومات کا بار بار دیکھنا انسان کے اندر مستقل فوبیا اور بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔

ماہرین سائبر سیکیورٹی کے مطابق اپنا ذاتی نام بار بار سرچ کرنے سے بھی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اور ڈیٹا ٹریکنگ الگورتھم آپ کی معلومات کو محفوظ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آئی فون کے شائقین کے لیے بری خبر

طبی و قانونی ماہرین کا مشورہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں سرچ انجن کو صرف معلوماتی سہولت تک محدود رکھا جائے اور صحت و سلامتی جیسے حساس معاملات پر انٹرنیٹ کے بجائے ہمیشہ متعلقہ ماہرین اور ڈاکٹرز سے رجوع کیا جائے۔

Scroll to Top