جہانزیب خان آفریدی
خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل ملاگوری کے سرکاری پرائمری سکول کمبیلا میں مبینہ طور پر غیر معیاری فرنیچر کی فراہمی اور چند ماہ کے اندر فرنیچر کے دیمک زدہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد صوبے کے دیگر سرکاری سکولوں میں فراہم کیے گئے فرنیچر کے معیار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اس حوالے سے ڈی ای او خیبر محکمہ تعلیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ فرنیچر محکمہ تعلیم نے براہِ راست نہیں خریدا، بلکہ اسے سرکاری ادارے ایس آئی ڈی پی یا پاک جرمن کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ ادارے خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں اور دفاتر کے لیے فرنیچر کی خریداری اور فراہمی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا اسمبلی میںبانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی قرارداد منظور
ڈی ای او خیبر کے اس موقف کے بعد معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی سرکاری ادارے کی جانب سے سرکاری سکولوں کے لیے فراہم کیا جانے والا فرنیچر چند ہی ماہ میں دیمک زدہ ہو گیا تو اس کی خریداری، معیار کی جانچ اور فراہمی کے عمل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اب تک متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
ملاگوری کے ایک سرکاری سکول میں سامنے آنے والا یہ معاملہ صرف ایک تعلیمی ادارے تک محدود رکھنے کے بجائے صوبے بھر میں تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس بات کا تعین ضروری ہے کہ آیا خیبر پختونخوا کے دیگر سرکاری سکولوں میں بھی اسی معیار کا فرنیچر فراہم کیا گیا ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے سرکاری سکولوں میں فراہم کیے جانے والے فرنیچر کے معیار، خریداری کے طریقہ کار، سپلائرز، قیمت، استعمال ہونے والی لکڑی اور دیگر سامان کا جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی رقم کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے صوبائی وزیر و سیکرٹری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر پزشکیان کے درمیان ملاقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، وزیرداخلہ محسن نقوی
تحقیقات کے دوران یہ بھی واضح کیا جائے کہ ملاگوری کے سرکاری سکولوں کے لیے فرنیچر کس ادارے نے خریدا، اسے کس کمپنی یا ٹھیکیدار سے حاصل کیا گیا، معیار کی جانچ کس افسر یا کمیٹی نے کی اور سکولوں تک پہنچانے سے قبل فرنیچر کا معیار کیوں نہیں پرکھا گیا۔
اسی طرح متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران، بشمول ڈی ای او خیبر، اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا بھی تعین کیا جانا چاہیے کہ فرنیچر وصول کرتے وقت اس کی حالت اور معیار کی مناسب جانچ کیوں نہیں کی گئی۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر انکوائری کے نتیجے میں غیر معیاری خریداری، ناقص نگرانی یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار اداروں اور افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ سرکاری سکولوں کے لیے مختص وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔





