کاشف عزیز
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پمزہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ 15 معصوم جانوں کا ہسپتال کی نرسری میں جھلس کر جاں بحق ہونا انتہائی سنگین اور ناقابلِ معافی غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے دارالحکومت میں ہسپتالوں کی یہ صورتحال ہے تو باقی ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق بچوں کے والدین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کو جواب دینا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی یو انتہائی حساس جگہ ہوتی ہے، اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں مناسب عملہ موجود کیوں نہیں تھا۔
ایمل ولی خان نے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نرسری جیسے حساس مقام پر حفاظتی معیارات کی نگرانی کس کی ذمہ داری تھی اور آتشزدگی کے بعد بچوں تک فوری رسائی کیوں ممکن نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ واقعے کو محض حادثہ قرار دے کر فائل بند نہیں کی جاسکتی، بلکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت احتساب ضروری ہے۔ صرف چند ملازمین کی معطلی کافی نہیں، واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق بچوں کے والدین کو واقعے سے متعلق مکمل حقائق فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سانحہ ناقص انتظامات یا انتظامی غفلت کا نتیجہ ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کو کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہیے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ ملک بھر کے تمام اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ایمرجنسی سیفٹی کے انتظامات کا فوری آڈٹ کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
انہوں نے جاں بحق بچوں کے والدین اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔





