اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کو بنیاد بنا کر وفاقی حکومت کو نشانہ بنانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)سوشل میڈیا پر خود شدیدتنقید نشانہ بن گئی ۔
سوشل میڈیا پر صارفین دسمبر 2020میں خیبر پختونخوا کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) میں پیش آنے والے اس دردناک آکسیجن بحران کو دوبارہ زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے جس میں آکسیجن کی عدم دستیابی سے 7مریض منٹوں میں دم توڑ گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت پر تنقید کے بعد کے ٹی ایچ کا پرانا سانحہ ایک بار پھر ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ وفاق پر الزام تراشی کرنے والی تحریک انصاف کو پہلے اپنے ہی صوبے میں ہیلتھ سسٹم کی اس بدترین ناکامی کا جواب دینا چاہیے جب 5اور6 دسمبر2020 کی درمیانی رات پشاور کے ہسپتال میں صوبائی حکومت کی غفلت اور انتظامی نااہلی کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی جانیں گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا
صارفین کے مطابق پمز واقعے کے بہانے وفاقی حکومت پر سیاسی حملہ کرنے کی کوشش میں پی ٹی آئی کے اپنے دورِ حکومت کے ہسپتالوں کی خستہ حالی اور کے ٹی ایچ آکسیجن بحران کا واقعہ ایک بار پھر تازہ ہو گیا ہے جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور دہرے معیار کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔





