ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث مجرم بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادیچ اقوام متحدہ کے حراستی مرکز میں چل بسے۔
دی ہیگ سے خبر ایجنسی کے مطابق راتکو ملادیچ 1992 سے 1995 کی بوسنیا جنگ میں نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے،خبر ایجنسی کے مطابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادیچ کو 8 ہزار مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
خبر ایجنسی کے مطابق سابق بوسنیائی سرب جنرل پر مسلمانوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کی مہم چلانے کا بھی الزام تھا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد بھی راتکو ملادیچ کئی برس تک گرفتار نہیں ہوسکا تھا۔ مغربی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود سربیا میں موجود قوم پرست حلقوں میں وہ ایک ہیرو سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے تک بلغراد میں روپوش زندگی گزارتا رہا۔
بالآخر2011 میں اسے گرفتار کرلیا گیا، گرفتاری کے وقت وہ شدید بیمار اور جسمانی طور پر کمزور ہوچکا تھا جبکہ اس کا دایاں بازو بھی مبینہ طور پر فالج کے باعث متاثر تھا۔
راتکو ملادیچ پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے، 2017 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا تھا۔
اس نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی، لیکن 2021 میں اپیل بھی مسترد کردی گئی، اس کے بعد اس نے خراب صحت کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے تحت رہائی کی متعدد درخواستیں بھی دیں، جو منظور نہ ہوسکیں۔





