ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بری خبر

ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بری خبر

Pakistan SCO Summit 2026

امریکی و بین الاقوامی پابندیوں، بلند ترین افراطِ زر اور حالیہ جنگی اثرات کے باعث ایران کی قومی کرنسی تاریخ کی شدید ترین گراوٹ کا شکار ہو گئی ہےجہاں فری مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت پہلی بار 20 لاکھ ایرانی ریال کی حد عبور کر گئی ہے۔

کرنسی کی اس بے تحاشا بے قدری کے نتیجے میں تقریباً 9 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ملک میں عام شہریوں کی قوتِ خرید مکمل طور پر جواب دے گئی ہے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی کے بعد سے خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

جنگ کے آغاز سے قبل 20 لاکھ ریال کی رقم 4 کلو ٹماٹر، آدھا کلو مرغی کا گوشت اور ایک لیٹر کوکنگ آئل خریدنے کے لیے کافی ہوتی تھی تاہم اب اسی رقم سے ان بنیادی اشیاء کی آدھی مقدار خریدنا بھی ممکن نہیں رہا۔

دستیاب معاشی اعداد و شمار کے مطابق کوکنگ آئل کی قیمت میں 177 فیصد، مرغی کے گوشت میں 74 فیصد اور ٹماٹر کی اوسط قیمت میں 71 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اشیائے خوردونوش کے ساتھ ساتھ طبی شعبے میں ادویات کی شدید قِلّت اور قیمتوں میں اضافے نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم دوا انسولین کی قیمت میں 642 فیصد جبکہ پیراسیٹامول کی قیمت میں 93 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے، نوٹیفکیشن جاری

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے سبسڈی یافتہ دیگر اشیاء بھی 95 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیںجبکہ تہران کی اوپن مارکیٹ میں ریال کی قدر میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث معاشی صورتحال لمحہ بہ لمحہ غیر مستحکم ہو رہی ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top