خطے میں تناؤ میں اچانک شدت آ گئی ہے جہاں امریکی افواج نے ایران کے اندر پاسداران انقلاب کے مختلف عسکری اڈوں پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فوجی کارروائی حال ہی میں آبنائے ہرمز کے قریب بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششوں کے ردعمل میں کی گئی ہے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ یہ حملے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھے ۔
۔دوسری جانب، مقامی اور ایرانی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لارک جزیرے پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی و شہری جاں بحق و زخمی،راکٹ لانچرز بھی تباہ ، پاسداران انقلاب کی تصدیق
پاسداران انقلاب کی تصدیقایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق جزیرہ قشم میں پانچ طاقتور دھماکے ریکارڈ کیے گئے جبکہ آبنائے ہرمز کے اطراف بھی چار مقامات پر دھماکوں کی آوازیں گونجی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس کشیدگی کی زد میں آنے والے علاقوں میں قشم کا علاقہ ماسن اور بندر عباس بھی شامل ہیں جہاں لوگوں نے دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنیں۔





