خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں تقریباً 37 ہزار کمرے خستہ حال ہیں، جن کی مرمت یا دوبارہ تعمیر کی فوری ضرورت ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں مجموعی طور پر 36 ہزار 967 کمرے ایسے ہیں جو یا تو مکمل تعمیر نو کے متقاضی ہیں یا انہیں شدید نوعیت کی مرمت درکار ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق بندوبستی اضلاع میں 16 ہزار 934 کمرے دوبارہ تعمیر کرنے جبکہ 14 ہزار 632 کمروں کی بڑی مرمت کی ضرورت ہے۔
ضم شدہ اضلاع میں 2 ہزار 290 کمرے تعمیر نو اور 3 ہزار 111 کمرے شدید مرمت کے منتظر ہیں، بندوبستی اضلاع میں سب سے زیادہ خستہ حال کمرے سوات میں ہیں، جہاں 2 ہزار 625 کمرے دوبارہ تعمیر اور 685 کمروں کی شدید مرمت درکار ہے۔
مردان میں 1 ہزار 381 کمرے تعمیر نو اور 871 مرمت، پشاور میں 840 تعمیر نو اور 845 مرمت، نوشہرہ میں 805 تعمیر نو اور 683 مرمت، بنوں میں 735 تعمیر نو اور 794 مرمت، چارسدہ میں 733 تعمیر نو اور 723 مرمت، جبکہ لکی مروت میں 695 کمرے تعمیر نو اور 839 کمروں کی مرمت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی کے سرکاری سکول میں بارش کا پانی جمع، تعلیمی سرگرمیاں متاثر، طلبہ کو چھٹی
ضم شدہ اضلاع میں شمالی وزیرستان میں 352 کمرے دوبارہ تعمیر اور 443 کمرے مرمت طلب ہیں۔
باجوڑ میں 303 تعمیر نو اور 402 مرمت، کرم میں 275 تعمیر نو اور 426 مرمت، خیبر میں 268 تعمیر نو اور 364 مرمت، مہمند میں 239 تعمیر نو اور 317 مرمت، جنوبی وزیرستان اپر میں 172 تعمیر نو اور 220 مرمت، اورکزئی میں 130 تعمیر نو اور 192 مرمت جبکہ جنوبی وزیرستان لوئر میں 96 کمرے تعمیر نو اور 174 کمروں کی بڑی مرمت درکار ہے۔





