خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز کودیر بالا کے شہریوںخوش آئند قرار دے دیا ہےجبکہ الگ صوبہ بننے کی صورت میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام سمیت سابق صوبائی وزراء شکیل خان اور عنایت اللہ خان کے نام مضبوط امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
دیر بالا میں کی گئی عوامی سروے کے دوران ایک شہری نے ملاکنڈ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کی شدید حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےاس لیے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے صوبوں کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ اگر ملاکنڈ صوبہ بنتا ہے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی بہترین صلاحیتوں اور خدمات کی بنا پر وزیراعلیٰ کے لیے سب سے زیادہ طاقتور اور موزوں ترین امیدوار ہوں گے۔
ایک اور مقامی شہری نے ملاکنڈ ڈویژن کو پسماندہ قرار دیتے ہوئے الگ صوبے کی تائید کی اور کہا کہ عمران خان کی بھی یہ سوچ رہی ہے کہ ملک میں مزید صوبے بننے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ صوبہ بننے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق صوبائی وزیر شکیل خان اس عہدے کے لیے بہترین اور مضبوط ترین انتخاب ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پولیس افسران کے تبادلے
اسی طرح ایک اور شہری نے بھی الگ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے جماعتی اسلامی کے مرکزی راہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کو وزیراعلیٰ کے لیے سب سے تکڑا اور مضبوط ترین امیدوار قرار دیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔





