کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی کان کنی، 100 سے زائد پلانٹس کا انکشاف

Pakistan SCO Summit 2026

کوہاٹ: دریائے سندھ کے کنارے سونے کی غیر قانونی کان کنی کا بڑے پیمانے پر انکشاف، 100 سے زائد پلانٹس اور مشینری یونٹس غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف پائے گئے۔

محکمہ معدنی ترقی کے مطابق کوہاٹ کے علاقے شکردرہ کے جنگلات میں دریائے سندھ سے حاصل ہونے والے پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مشترکہ سرکاری ٹیم نے 100 سے زائد پلانٹس اور مشینری یونٹس کی غیر مجاز کان کنی میں ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔

محکمہ معدنی ترقی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز خیبر پختونخوا کو ارسال کیے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ 3 ستمبر کو محکمہ معدنیات، محکمہ جنگلات، ضلعی انتظامیہ، صنعت و صارف تحفظ اور پولیس کے افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے شکردرہ کے جنگلات کا دورہ کیا۔

مراسلے کے مطابق فیلڈ وزٹ کے دوران جنگلات کے مختلف مقامات پر 100 سے زائد پلانٹس اور مشینری یونٹس پلیسر گولڈ کی غیر مجاز کان کنی میں مصروف پائے گئے۔ حکام نے غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا اور انتہائی سنگین قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : پنشنرز کے لیے بڑی سہولت، نادرا نے پروف آف لائف مفت کر دیا

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ موقع پر سرکاری افسران اور اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود بڑی تعداد میں موجود افراد اور بھاری مشینری کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاسکی۔

محکمہ معدنی ترقی کے مطابق شکردرہ کے جنگلات میں غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کا حجم محکمہ معدنی ترقی کوہاٹ اور محکمہ جنگلات کی موجودہ افرادی قوت اور آپریشنل استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ عملے، گاڑیوں اور پولیس معاونت کی محدود دستیابی کے باعث نگرانی، چھاپہ مار کارروائیوں اور غیر قانونی کان کنی کے مقامات تک مشینری کی نقل و حرکت روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ معدنی ترقی نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوہاٹ ریجنل آفس میں فوری طور پر ڈرلٹی انسپکٹرز، ڈرلٹی سب انسپکٹرز اور 15 منرل گارڈز تعینات کرنے کی درخواست کی ہے، جبکہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کے لیے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ سے جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top