کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام پروفائل کنٹرول لسٹ سمیت دیگر سفری پابندیوں کی فہرستوں سے نکالنے سے متعلق دائر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔
درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی نے کی، جس کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران سرکاری حکام نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار مینا خان آفریدی کا نام PCL سے نکال دیا گیا ہے جبکہ ان کا نام دیگر تمام متعلقہ فہرستوں سے بھی خارج کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت درخواست گزار کا نام کسی بھی سفری پابندی کی فہرست میں موجود نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مینا خان آفریدی صوبائی وزیر ہیں اور انہیں برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے دعوت دی گئی ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل درخواست دائر کیے جانے پر وفاقی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ درخواست گزار کا نام PNIL میں شامل ہے، جبکہ دیگر کسی فہرست میں ان کا نام موجود نہیں تھا۔
وکیل کے مطابق عدالت نے درخواست گزار کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، تاہم اس کے باوجود انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سینیٹ نشست کا انتخاب ملتوی کرنے کے خلاف درخواست، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے درخواست گزار کی جانب سے جرمنی جانے کی بات کی جارہی تھی، جبکہ اب بتایا جارہا ہے کہ وہ برطانیہ جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی جانب سے اس حوالے سے کوئی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔
اس پر درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جرمنی جانے کا پروگرام تھا، تاہم اب برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینا خان آفریدی صوبائی وزیر ہیں اور انہیں کسی بھی ملک جانے کا حق حاصل ہے، اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
ایف آئی اے حکام نے ایک بار پھر عدالت کو بتایا کہ مینا خان آفریدی کا نام اس وقت PCL، ECL، PNIL یا کسی بھی دوسری فہرست میں شامل نہیں ہے۔
سرکاری حکام کی جانب سے مینا خان آفریدی کا نام تمام متعلقہ فہرستوں سے خارج کیے جانے کی تصدیق کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔





