برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی ہوٹل آمد پر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک افواہ کے باعث ہنگامہ کھڑا ہوگیا، 30 سے 40 مظاہرین نے ہوٹل کے باہر احتجاج کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق بعض مظاہرین ہوٹل کے اندر ٹیم کے کمروں تک بھی پہنچ گئے اور کھلاڑیوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ مظاہرین کو مبینہ طور پر یہ غلط اطلاع ملی تھی کہ تارکینِ وطن کو بس کے ذریعے ہوٹل لایا گیا ہے، تاہم وہاں موجود افراد پاکستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔
پی سی بی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
امیگریشن مخالف ریفارم یو کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے کونسلر جارج میڈگوک نے کرکٹرز کی آمد پر احتجاج کا جواز پیش کیا، تاہم نسل پرستانہ ردعمل کی تردید کی۔
پورٹس ماؤتھ نارتھ سے لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمان امانڈا مارٹن نے واقعے کو شدید تشویش کا باعث قرار دیا۔
دوسری جانب پورٹس ماؤتھ میں نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’اسٹینڈ اپ ٹو ریس ازم پورٹس ماؤتھ‘ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی نسل پرست عناصر نے غلط افواہ پھیلائی۔
یہ بھی پڑھیں: امام الحق اور محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے نااہل
تنظیم کے مطابق نسل پرست عناصر کا منظم ہونا انتہائی خطرناک ہے، یہ نسل پرستی کا عملی مظاہرہ ہے اور اسے بند ہونا چاہیے۔





