اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے بعد شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے بڑی بات ہے کہ ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت نے ان کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے کر فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ بننا اور علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ منظور کیے بغیر ڈی نوٹیفائی کرنا آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب عدالت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں فیصلہ کرے گی کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ درست تھا یا نہیں اور انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام آئین کے مطابق تھا یا نہیں۔
شیر افضل مروت نے واضح کیا کہ اگر ان کی درخواست منظور ہوتی ہے تو اس کا مطلب سہیل آفریدی کی نااہلی نہیں ہوگا، بلکہ عدالت علی امین گنڈاپور کے استعفے کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں گنڈاپور کے ساتھ ان کی کابینہ بھی بحال ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں انہوں نے سابق سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیا جس میں نااہل شخص کے ریاستی امور میں کردار کے حوالے سے قانونی اصول وضع کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے خلاف درخواست، وفاقی آئینی عدالت کا نوٹس جاری
شیر افضل مروت کے مطابق موجودہ قانونی پوزیشن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور جب تک متعلقہ عدالتی فیصلے تبدیل نہیں ہوتے، قانون کو تسلیم کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کو وہ درست تسلیم کرتے ہیں تو شیر افضل مروت نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ نااہل شخص حکومت نہیں چلا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی اصطلاحات اور موجودہ قانونی پوزیشن کے مطابق بات کرتے ہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ انہوں نے عدالت سے کسی عبوری حکم یا وزیراعلیٰ کو معطل کرنے کی استدعا نہیں کی بلکہ کیس کی سماعت کے لیے اکتوبر کے دوسرے ہفتے کی تاریخ ملی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے دیے گئے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے دائر کی جاچکی تھی اور اب معاملہ عدالت میں ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں، جبکہ اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔





