پنجاب میں قانون کی پاسداری کے معاملے پر سیاسی محاذ آرائی کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی مقاصد اور مظلومیت کا کارڈ کھیلنے کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ لاہور کو بنیاد بناتے ہوئے کل دوپہر ایک بجے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمنٹیرینز کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں مذمتی قرارداد منظور کرنے کے ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل جاری کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شہید کارکن کی فاتحہ خوانی کے لیے گئے تھے جہاں پنجاب پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، جسے وہ پورے صوبے اور چار سے ساڑھے پانچ کروڑ عوام کی توہین قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے پنجاب کو ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ کہتے ہوئے شکوہ کیا کہ ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، جبکہ تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے پرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ کسی ایس ایچ او کی یہ جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ صوبے کے منتخب چیف ایگزیکٹو پر ہاتھ ڈالے یا انہیں گاڑی میں بٹھائے، اور دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو دیگر صوبوں میں سیاسی سرگرمیوں سے کوئی نہیں روک سکتا۔





