وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق معاملات پر بحث ہوئی اور 3 ماہ کے لیے تھری ویلر اور 800 سی سی گاڑیوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں زیر بحث نہیں آئی اور نہ ہی ایسی کوئی بات ان کے علم میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق 3 ماہ کے لیے تھری ویلر اور 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے تاکہ وہ لوگوں کو اس ریلیف کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔
اس سے قبل ایک نجی میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تجویز کا اطلاق سرکاری اور نجی سطح پر دفاتر اور تعلیمی اداروں پر کیے جانے کا امکان بتایا گیا تھا۔
ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا تھا کہ حکام نے تمام متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کی تیاری اور ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نئے نظام کے تحت کچھ عملہ دفتری حاضری دے گا جبکہ دیگر ملازمین کو ورک فرام ہوم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
تاہم وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کردیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی تجویز زیر غور نہیں آئی۔
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ اسلام آباد بند ہونے نہیں جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر کے مہینے میں 3 مارچز کی باتیں ہو رہی ہیں جبکہ ان کے بقول سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرا مارچ پاکستان تحریک انصاف کا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ شہریوں کی آمد و رفت بحال رکھنی ہے اور عوامی مقامات پر کسی بھی جماعت کے لیڈرز کو قبضہ نہیں کرنے دینا۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اپنی ڈیوٹی کررہی ہے، سوچنا ان لوگوں کو چاہیے جو بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں، پرامن مارچ کا نام دیتے ہیں اور پرتشدد مظاہرے کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے سیاسی احتجاج کے حوالے سے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ نظام بدلنے آرہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کی تشریف سے نظام بدل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر کہا جائے کہ استعفیٰ دیں تو کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے؟
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کئی مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے گزشتہ روز لاہور میں پیش آنے والے مناظر پر بھی تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: افغان میڈیکل طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کی درخواست مسترد
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو مناظر دیکھے گئے، اس سے زیادہ سیاسی ناپختگی اور کسی منصب کی تذلیل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، کبھی کسی گاڑی پر بیٹھتے ہیں اور کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ ان کے لیے قابل احترام ہیں اور انہیں اپنے منصب کی عزت کرنی چاہیے۔




