وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی منڈی کے دباؤ کے پیش نظر ملک میں پیٹرولیم اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کےمطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کو کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اہم تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔
حکومت کی جانب سے اس اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے حتمی فیصلہ آج شام تک سامنے آنے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مجوزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں صرف چار دن کام کرنے کا فارمولا پیش کیا گیا ہے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز مکمل چھٹی دینے اور گاڑیوں کی نقل و حمل میں واضح کمی لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسٹریٹ موومنٹ کے دوران جنید اکبرزخمی، پاؤں پر پٹی باندھے اسمبلی پہنچ گئے
اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے لیے روٹیشن کی بنیاد پر دفتر آنے کا طریقہ کار بھی زیرغور ہے۔ معاشی دباؤ سے نپٹنے کے لیے تجارتی مراکز اور بازاروں کی ہفتے میں تین دن بندش اور کاروباری اوقات کار محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔





