اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے شعیب شاہین، ملک عامر علی اور دیگر رہنماؤں کو ہراساں یا گرفتار کرنے سے روک دیا۔

درخواست گزاروں کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور ریاست آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔ شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ایک بار پھر گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مبینہ طور پر گھروں سے سامان اور رقم بھی لے جائی جاتی ہے۔ شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ وہ خود مریض ہیں، اس کے باوجود ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد:انسداد دہشت گردی عدالت کا وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت24اراکان اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

شعیب شاہین نے الزام عائد کیا کہ چھاپوں کے دوران خواتین، بچوں اور بچیوں کو بھی گھروں سے اٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بیان حلفی اور سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

انہوں نے استدعا کی کہ عدالت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے اور کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کی جائے۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس ایس پی آپریشنز کو طلب کرکے معاملے سے متعلق پوچھا جاتا ہے اور اس حوالے سے حکم بھی جاری کیا جائے گا۔

بعد ازاں عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور شعیب شاہین، ملک عامر علی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top